0

‘شناختی کارڈ میں تبدیلی کی ………….نئے کوائف بھی شامل …….پاکستانیوں کے لئے بڑی خبرآگئی

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک)معروف ہیماٹالوجسٹ نے

قومی شناختی کارڈ پر بلڈ گروپ اور تھیلسیمیا کا اسٹیٹس شامل کرنے کا مطالبہ کردیا۔تفصیلات کے مطابق معروف ہیماٹالوجسٹ ڈاکٹر ثاقب حسین انصاری نے اے آر وائی نیوز کے پروگرام ‘ باخبر سویرا’ میں شرکت کی اور بلڈ گروپس کی اہمیت وافادیت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ڈاکٹر ثاقب نے کہا کہ خدا ناخواستہ کسی حادثے کی صورت میں اگر زخمی کا بلڈ گروپ فوری معلوم ہوجائے تو منٹوں میں اس کے لئے

متبادل خون کا انتظام کیا جاسکتا ہے ورنہ اسکریننگ ٹیسٹ میں آدھا گھنٹہ لگ جاتا ہے جو کہ زخمی شخص کے لئے خطرناک ہوسکتا ہے۔معروف ہیماٹالوجسٹ نے بتایا کہ انٹرنیشنل لائف سیونگ گائیڈ لائنز کے مطابق کسی بھی حادثے کا شکار افراد کے لئے حادثے کے بعد کا ایک گھنٹہ انتہائی اہمیت کا حامل ہوتا ہے، انہوں نے کہا کہ توسط سے مطالبہ کیا کہ ڈرائیونگ لائسنس کی طرح قومی شناختی کارڈ نمبر پر

بلڈ گروپ اور تھیلیسمیا اسٹیٹس کا خانہ شامل کیا جائےمعروف ہیماٹالوجسٹ ڈاکٹر ثاقب حسین انصاری نے بتایا کہ ہمارے بلڈز بینک کو زیادہ تر مشکلات ( آر ایچ ڈی نیگٹو) میں پیش آتی ہے، اسے عام زبان میں کسی بھی بلڈ گروپ کا نیگیٹو کہتے ہیں.انہوں نے بتایا کہ او نیگیٹو وہ بلڈ گروپ ہے جو کسی بھی گروپ شخص کو لگایا جاسکتا ہے، مگر مشکل یہ ہے کہ او نیگیٹو کو صرف او نیگیٹو ہی لگایا جاسکتا ہے، پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر ثاقب حسین انصاری نے جو بلڈ گروپ نایاب ہیں ان کے لئے ہمیں مختلف فورم پر گروپ بنانے چاہیئے اور لوگوں کو بھی اپنے بلڈ گروپ کا پتہ ہونا چاہئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں