9 کروڑ سے زائد بچوں کو خسرہ اور روبیلا سے بچاؤ کے حفاظتی ٹیکوں کی قومی مہم

 وزیراعظم کے معاون برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے آج خسرہ اور روبیلا سے بچاؤ کی قومی مہم کا آغاز کردیا ہے، دنیا کی سب سے بڑی مہم میں 9 ماہ سے 15 سال تک کے بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگائے جائیں گے، مہم کا باقاعدہ آغاز ملک بھر میں 15 نومبر سے ہورہا ہے، مہم میں پانچ سال تک کے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے حفاظتی قطرے بھی پلائے جائیں گے،مہم 27 نومبر تک جاری رہے گی۔

دو ہفتے تک جاری رہنے والی مہم میں محکمہ صحت کے 386000 اہلکار حصہ لے رہے ہیں، جن میں 76 ہزار ویکسینیٹرز، اور ایک لاکھ 43 ہزار سوشل موبلائزر شامل ہیں- قومی مہم کا باقاعدہ آغاز کرتے وزیراعظم کے معاون برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا کہ  خسرہ اور روبیلا متعدی بیماریاں ہیں اور بچوں کے لئے شدید پیچیدگیاں یہاں تک کہ موت بھی ہوسکتی ہے۔ خسرہ اور روبیلا کے خلاف موثر ویکسین موجود ہے۔ وزیراعظم کے معاون برائے صحت  ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا کہ میں صحت کے کارکنوں سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ لگن کے ساتھ کام کریں اوروالدین اپنے بچوں کوخسرہ روبیلا کا حفاظتی ٹیکہ لگا کر اپنی حمایت کا اظہار کریں اور بچوں کی صحت کا تحفظ یقینی بنايں۔

حفاظتی ٹیکہ جات پروگرام کے نیشنل پروگرام منیجر ڈاکٹر محمد اکرم شاہ نے کہا کہ” خسرہ اور روبیلا سے بچے شدید بیمار ہوتے ہیں اور بعض اوقات موت بھی ہوجاتی ہے” انھوں نے کہا کہ” حالیہ برسوں میں پاکستان میں ان بیماریوں کے کیسز میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے جس سے ہزاروں بچے متاثر ہوئے ہیں اور اموات بھی ہوئی ہیں اس لئے بچاؤ کےلئے ہر بچے تک ویکسین کی رسائی لازمی ہے”

جاری ہونے والے بیان کے مطابق مہم نجی اور سرکاری مراکز صحت، عارضی ویکسینیشن سنٹرز اور تعلیمی اداروں میں ہوگی- یہ بات قابل ذکر ہے کہ مہم میں رکھے گئے ہدف میں آدھے بچے اسکولوں کے طلبہ و طالبات ہیں۔ مہم کے بعد ایم آر ویکسین 9 ماہ اور 15 ماہ کی عمر کے بچوں کے لئے حفاظتی ٹیکہ جات کے شیڈول میں دستیاب ہوگی۔

پاکستان میں عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ڈاکٹر پلیتھا ماہی پالا نے کہا ہے کہ ” خسرہ اور روبیلا کی مہم سے ان موذی بیماریوں کو قابو میں رکھا جائے گا بلکہ ملک بھر میں ان بیماریوں سے ہونے والی بچوں کی ہلاکتوں کی شرح بھی کم ہوگی۔ صحت کے بنیادی سہولیات تک رسائی ہر بچے کا بنیادی حق ہے۔ انھوں نے کہا کہ عالمی ادارہ صحت پاکستانی حکومت کے ساتھ مشترکہ کوشیشیں کررہا ہےاور اس بات کو یقینی بنا رہا ہے کہ ہر بچے تک ویکسین کی رسائی ممکن ہوسکے قومی مہم سے موجودہ خسرہ کی وبا کو قابو کرلیا جائے گا حکومت پاکستان کے اس اقدام سے تمام بچوں کو فائدہ ہوگا-

 پاکستان میں یونیسیف کی سربراہ ایڈا گرما نے کہا ہے کہ ” آج بھی دنیا کو خسرہ اور روبیلا کے متعدی امراض کا سامنا ہے، ویکسین سے ان امراض کا خاتمہ ممکن ہے،” انھوں نے مزید کہا کہ یونیسیف کو پاکستان کے ساتھ مشترکہ کوششوں پر فخر ہے، ہم چاہتےہیں کہ فرنٹ لائن ورکرز اس مہم کو کامیاب بناتے ہوئے ہدف حاصل کریں- والدین اور تمام مکتبہ فکر کو اس مہم کی افادیت اور آگاہی کی کوششوں میں شامل ہیں۔مشترکہ کوششوں سے ہم نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا سے خسرہ اور روبیلا کے خاتمے میں اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں”

پاکستان میں گذشتہ چند سالوں سے حفاظتی ٹیکہ جات کے پروگرام پر خصوصی توجہ دی گئی ہے جس کے بہترین نتائج سامنے آئیں ہیں ، ہر بچے تک ویکسین کی رسائی ممکن بنائی جارہی ہے تاکہ ان بیماریوں کا روک تھام مستقل بنیادوں پر کیا جاسکے۔