0

کنسٹرکشن ، رئیل انڈسٹری کی ترقی کےلئے حکومتی پیکج قابل ستائش ہے؛ رانا محمد اکرم

سرگودھا(جنید قیوم عباسی) کنسٹرکشن اور رئیل انڈسٹری کی ترقی کےلئے حکومتی پیکج کے بعد کاروباری سرگرمیوں میں زبردست اضافہ اور ملکی معیشت پر مثبت اثرات رونما ہو رہے ہیں۔ ان خیالات کااظہار فیڈریشن آف رئیلٹر پاکستان کے نائب صدر رانا محمد اکرم نے سرگودھا پریس کلب میں، پروگرام میٹ دی پریس سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے چند ماہ قبل کنسٹرکشن اور رئیل اسٹیٹ انڈسٹری کی ترقی اور کاروبار میں آسانی کےلئے مراعاتی پیکیج کا اعلان کیا تھا، جس کے تحت متعدد ٹیکس انتہائی کم، طریقہ کار آسان اور انوسمنٹ کو مکمل تحفظ دے دیا گیا ہے، اس پیکج کے تحت 31دسمبر 2020ء تک کنسٹرکشن کے شعبہ میں سرمایہ کاری کرنےوالوں سے پیسے کا سورس نہیں پوچھا جا رہااور انویسٹمنٹ کرنےوالوں پر فکسڈ ٹیکس عائد اور ان کا کوئی آڈٹ نہیں ہے ۔ بلڈرز ود ہولڈنگ ٹیکس کےلئے ایف بی آر کو جواب دہ نہیں ہے۔ پراپرٹی کی خریداری پر اخراجات10فیصد سے کم ہو کر 2فیصد رہ گئے ہیں، مالک اور خریدار پر ایڈوانس ٹیکس کم کرکے پہلے سے نصف کردیا گیا ہے۔ گین ٹیکس میں بھی50 فیصد کمی جبکہ پراپرٹی ہولڈر کو 8سال کی بجائے4سال بعد منافع پر ٹیکس سے مثتثنی کردیا گیا ہے، اب مرحلہ وار پہلے سال پورے منافع پر ٹیکس، دوسرے سال منافع کے 75فیصد پر ٹیکس، تیسرے سال منافع کے 50 فیصد پر ٹیکس، چوتھے سال کے 25 فیصد پر ٹیکس اور 4 سال بعد کوئی ٹیکس نہیں لگے گا جو انوسٹر کے لئے بہت بڑا ریلیف ہے، اوور سیز ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں اور حکومتی پیکیج اور سرمایہ کو تحفظ کے بعد اوور سیز کی پراپرٹی کے کام میں سرمایہ کاری بڑھ گئی ہے۔ رانا محمد اکرم نے ایک سوال کے جواب میں کہاکہ وزیر اعظم عمران خان اور چیئرمین نیا پاکستان ہاؤسنگ اینڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی جنرل انور علی حیدر کی پالیسی اور تعاون کی وجہ سے ملک بھر میں کنسٹرکشن اور رئیل اسٹیٹ انڈسٹری کا پہیہ چل پڑا ہے۔ اور اس سے منسلک 72 اقسام کی انڈسٹری میں بھی کاروباری سرگرمیاں شروع ہو گئی ہیں۔ کنسٹرکشن اور رئیل اسٹیٹ کے شعبہ سے ملک بھر میں تقریباً10لاکھ افراد وابستہ اور مجموعی طور پر اس انڈسٹری سے ایک کروڑ سے زائد افراد فائدہ اٹھائیں گے۔ نائب صدر فیڈریشن آف رئیلٹر پاکستان رانا محمد اکرم نے کہاکہ حکومت جب بھی عوامی مفاد کےلئے کوئی پیکج دیتی ہے تو بیوروکریسی روایتی طریقہ سے اس کی راہ میں روڑے اٹکاتی ہے جس کی وجہ سے اس پیکج کے ثمرات عوام تک پوری طرح نہیں پہنچ پاتے، حکومت کنسٹرکشن اور رئیل اسٹیٹ انڈسٹری کی تیزی سے ترقی کےلئے کمرشل اور رہائشی منصوبوں کے این او سی اور نقشہ جات ترجیحی بنیادوں پر پاس کرے۔ اور سرگودھا سمیت پنجاب بھر میں جو کھیوٹ بلاک ہیں انہیں اوپن کیاجائے۔ جن پرانی سکیموں کی منظوری میں قانونی پیچیدگیاں ہیں انہیں ریلیف دے کر منظور کیا جائے۔ انہوں نے کہاکہ نیا پاکستان ہاؤسنگ سکیم کے تحت کم آمدنی والے افراد کو ماہانہ اقساط پر گھروں کی فراہمی ایک انقلابی قدم ہے۔اس سکیم کے تحت35لاکھ میں سے15لاکھ افراد کی درخواستیں پہلے مرحلہ میں منظور کرلی گئی ہیں اور اب ان مکانات کی تعمیر کاکام تیزی سے ہوگا۔ جوکہ انویسٹرز کےلئے سنہرا موقع ہے رانا محمد اکرم نے کہاکہ ملک میں اس وقت بھی کرونا کیسز میں تیزی سے اضافہ اور عوام کو شدید معاشی مشکلات کا سامنا ہے، ہمارا حکومت سے مطالبہ ہے کہ تعمیراتی شعبہ کےلئے اس مراعاتی پیکج میں مزید چھ ماہ کی توسیع کرے تاکہ اس کے ثمرات عوام تک پہنچ سکیں  انہوں نے کہاکہ فیڈریشن آف رئیلٹر پاکستان کے ملک بھر میں ایک لاکھ ممبران ہیں اور یہ فیڈریشن ملک بھر میں  رئیل اسٹیٹ کے کاروبار سے وابستہ افراد کی واحد رجسٹرڈ تنظیم ہے ۔ فیڈریشن کے مطالبہ پر رئیل اسٹیٹ ریگولیٹری اتھارٹی قائم کرکے قومی اسمبلی سے بل پاس کردیا گیا ہے، ہمارا مطالبہ ہے رجسٹری یا جائیداد کی ٹرانسفر کے ساتھ ڈیلر کے سروسز چارجز کا بھی تحفظ کیا جائے۔ اس موقع پر رئیل اسٹیٹ ایسوسی ایشن سرگودھا کے سینئر نائب صدر ملک صداقت اعوان اور جنرل سیکرٹری شیخ محمد عارف بھی موجود تھے اور انہوں نے سرگودھا میں رئیل اسٹیٹ اور بلڈرز کو درپیش مسائل سے آگاہ کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں