0

ن لیگ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مذاکرات کے لئے تیار مقتدر حلقو ں سے بات کے لیے شرط یہی ہے کہ پہلے یہ کام کیا جائے .مریم نواز نے شرائط بتا دیں

گلگت (مانیٹرنگ ڈیسک) مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے کہا کہ فوج سے تب ہی بات ہو گی جب پاکستان تحریک انصاف کی حکومت گھر جائے گی۔برطانوی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے کہا کہ فوج سے بات کرنے کی شرط یہی ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو گھر بھیجا جائے۔
پاک فوج کی موجودہ قیادت سے مذاکرات کرنے کے سوال پر مریم نواز نے کہا کہ پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے مذاکرات کے آغاز پر غور کیا جا سکتا ہے بشرطیکہ جعلی حکومت کو گھر بھیجا جائے۔ انہوں نے کہا کہ فوج سے بات ہو سکتی ہے لیکن عوام کے سامنے، چُھپ چُھپا کر نہیں۔ مریم نواز نے انٹرویو میں دعویٰ کیا کہ اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے ہمارے قریبی ساتھیوں سے رابطے کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ نے میرے ارد گرد موجود بہت سے لوگوں سے رابطے کیے ہیں مگر میرے ساتھ براہِ راست کسی نے رابطہ نہیں کیا۔ خیال رہے کہ مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف نے الزام عائد کیا تھا کہ آرمی چیف ان کو وزارتِ عظمی سے ہٹانے کے لیے براہِ راست ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے اسے ‘سازش’ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس میں پاکستان کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹننٹ جنرل فیض بھی شامل تھے۔
اس پر بات کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ فوج میرا ادارہ ہے، ہم ضرور بات کریں گے، لیکن آئین کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے۔ اگر کوئی کریز سے نکل کر کھیلنے کی کوشش کرے گا، جو (دائرہ کار) آئین نے وضع کر دیا ہے اس میں رہ کر بات ہو گی، اور وہ بات اب عوام کے سامنے ہو گی، چھپ چھپا کر نہیں ہو گی۔ انہوں نے انٹرویو میں مزید کہا کہ میں ادارے کے مخالف نہیں ہوں مگر سمجھتی ہوں کہ اگر ہم نے آگے بڑھنا ہے تو اس حکومت کو گھر جانا ہو گا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں