0

ہماری خواہش ہے کہ ہم ‘’اہم اعلان’’ کی طرف نہ جائیں،وزیراعظم کیلئے غیر اہم ہو چکے ہیں تو پھر ٹھیک ہے، پھر ہم اپنا فیصلہ خود کر لیں گے ق لیگ کے مرکزی رہنما نے حکومتی پارٹی پر بجلیاں گرا دیں

لاہور(ویب ڈیسک) مسلم لیگ (ق) کے سیکرٹری جنرل طارق بشیر چیمہ نے کہا ہے کہ صوبہ پنجاب کا وزیراعلیٰ اگر بااختیار ہوتا تو معاملات اس حد تک نہ پہنچتے۔ صوبہ پنجاب کو کون چلا رہا ہے اور فیصلے کون کر رہا ہے کہ یہ تو صرف وزیراعظم اور ان کے اکابرین ہی بتا سکتے ہیں کہ نظام کس کے ہاتھ میں ہے۔طارق بشیر چیمہ نے کہا ہے کہ ہم حکومت سازی یا فیصلہ سازی میں حصہ دار نہیں ہیں۔ ہماری خواہش ہے کہ ہم ‘’اہم اعلان’’ کی طرف نہ جائیں۔ اگر ہم وزیراعظم کیلئے غیر اہم ہو چکے ہیں تو پھر ٹھیک ہے، پھر ہم اپنا فیصلہ خود کر لیں گے تاہم اگر ملکی مفاد، قومی سلامتی، عوام کی بہتری اور مسائل حل کرنے میں اگر کچھ فیصلے کرنے ہیں تو ہم آج بھی حاضر ہیں۔ایک نجی ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ ہماری خواہش ہے کہ ہم جس کشتی میں سوار ہیں وہ ضرور کنارے لگے۔ حکومت چھوڑنے کا ارادہ نہیں ہے۔ ہم اپنی ذات کے لیے کچھ نہیں مانگ رہے۔ عوام مفاد کے ایشوز کو حل کرنے کے لیے ہم آج بھی ساتھ ہیں۔ مہنگائی کو کنٹرول کیا جائے۔

ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ عثمان بزدار سے شکایات بھی ملتی جلتی ہے۔ تاہم معاملات تب ہی حل ہوں گے، جب وزیراعظم دلچسپی لیں گے۔ وزیراعظم کی مرضی ہے، اگر فیصلہ سازی میں شامل نہیں کرتے تو زبردستی نہیں کر سکتے۔ کیا کسان اور کاشتکاروں کے معاملات کو صوبہ کنٹرول نہیں کر سکتا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں