0

اقامہ ویزا ختم ہونے کی صورت میں پاکستانی شہری یہ کام کریں؛سعودی حکومت نے بڑا اعلان کر دیا

جدہ (شاہ جہاں شیرازی) دیگرممالک کی طرح سعودی عرب میں عالمی وبا کا پھیلاؤ روکنے کے بعد اور مملکت میں لگائے جانے والے لا ک ڈاؤن کے خاتمے کے بعد حالات معمول پر آنا شروع ہوگئے ہیں ۔ سعودی عرب کے ماہرین صحت کے مطابق عالمی وبا کے کیسز میں مسلسل کمی دیکھی جارہی ہے ۔ جس کی وجہ سے بین الااقوامی پروازوں کی بحالی کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا ہے ۔ایسی صورتحال میں اپنے ممالک واپس لوٹنے والوں کے اقاموں اور خروج و عود ویزوں کی معیاد کے ختم ہونے کی خبروں کے بعد وطن واپس گئے غیر ملکیوں کو پریشان کن صورتحال کا بھی سامنا ہے ۔ سعودی عرب سے چھٹی پر آئے ایک پاکستانی احمد علی نے سعودی ویب سے سوال کیا کہ” میں کافی عرصے سے سعودی عرب میں مقیم تھا ۔ لیکن عالمی وبا کے شروع ہوتے ہی چھٹی پر اپنے وطن پاکستان لوٹ آیا ۔ مگر پھر عالمی وبا کی پابندیوں اور فلائیٹس بند ہونے کی وجہ سے میں واپس نہ جا سکا۔ اس دوران اس کا اقامہ اور خروج و عودہ ویزا بھی ختم ہوگیا۔احمد علی کا مزید کہنا تھاکہ سعودی حکام کی جانب سے خصوصی رعایت کے تحت اقامہ اور خروج و عودہ کی مدت میں توسیع ہوگئی مگر فلائٹس نہیں ملنے کی وجہ سے نہ جاسکا ۔ اقامہ اور خروج و عودہ کی بھی مدت ختم ہوگئی ؟ اب میں کیا کروں کہ دوبارہ سعودی عرب پہنچ سکوں ؟احمد علی کا یہ بھی کہنا تھاکہ میرے کفیل نے کئی بار میرے اقامے کی تجدید کروانے کی کوشش کی ہے لیکن وہ نہیں ہوسکا۔ اس کے جواب میں ماہرقانون کا کہناتھاکہ کورونا وائرس کی وجہ سے سعودی عرب میں سفری پابندیوں کے باعث لوگوں کے اقامے اور خروج و عودہ کی مدت میں شاہی احکامات کے تحت توسیع کی گئی تھی تاہم اکتوبر میں فلائٹوں کی بندش کے خاتمے کے بعد سفری پابندیاں ختم ہونے کے ساتھ ہی حکومت کی جانب سے ایسے غیر ملکیوں کو جو مملکت سے باہر تھے اور وقت پر نہیں آسکے تھے ۔ان کے لیے یہ سہولت فراہم کی کہ کفیل اپنے کارکنوں کے اقامے اور خروج و عودہ کی مدت میں توسیع کروا لیں ۔ جوازات کی جانب سے ابشر اور مقیم سسٹم میں خصوصی آپشن جاری کیا ہے ۔ جسے استعمال کرتے ہوئے غیر ملکی کارکن جو مملکت سے باہر ہیں کہ اقامہ اور خروج و عودہ کی مدت میں توسیع کی جاسکتی ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں