0

نواز شریف کو وطن کیسے لایا جائے گا وزیر اعظم کے تازہ انٹرویو نے ن لیگ میں کھلبلی مچا دی

اسلام آباد(ویب ڈیسک) وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ نواز شریف کی واپسی کے لیے برطانیہ جانا پڑا تو خود جاؤں گا اور برطانوی ہم منصب بورس جانسن سے بات بھی کر سکتا ہوں۔نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ نوازشریف کو لندن سے متعلق لاہور ہائیکورٹ سے کہا کہ سات ارب روپے کی ضمانتی بانڈز مانگیں، عدلیہ نے ہماری بات نہیں مانی اور شہباز شریف کی گارنٹی لے لی۔وزیراعظم نے کہا کہ ضرورت پڑی تو برطانوی وزیراعظم بورس جانسن سے بات کروں گا اور نواز شریف کو واپسی لانے کے لیے لندن جانا پڑا تو جاؤں گا۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ الیکشن سمیت ہر چیز کے لیے تیار ہوں، این آر او نہیں دوں گا، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ مجھے بتاتے رہتے تھے کہ یہ لوگ ان سے ملنے آتے رہتے ہیں، میرے خیال میں جنرل باجوہ کی اپوزیشن سے ملاقاتیں غلطی تھی۔اپوزیشن کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ لوگ اقتدارمیں فیکٹریاں، جائیدادیں بنانے کیلئے آتے ہیں، لوگوں کا اقتدار میں آنے کا مقصد اپنے خاندانوں کو نوازنا ہے۔ سابق حکمرانوں کی کرپشن سےملک قرضوں میں ڈوب گیا۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہمارے لیے بڑا چیلنج مقروض ملک کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا ہے، ریاست مدینہ میں غریب طبقےکی فلاح پرتوجہ مرکوزکی گئی، ریاست مدینہ میں قانون کی بالادستی یقینی بنائی گئی تھی، ملک بھرمیں مزدوروں کیلئے پناہ گاہیں بنا رہے ہیں۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ نواز شریف ہی نہیں اسحق ڈار بھی بھاگے ہوئے ہیں، کنٹینرز پر چڑھا ہوا یہ ٹولہ اگر میری تعریف کرے تو توہین سمجھوں گا، ان کا میری تعریف کرنے کا مطلب جیسے میں نے بھی کوئی جرم کیا ہوا ہے، ان سب کو جانتا ہوں یہ کیا تھے اور کیا بن گئے، ان کا ون پوائنٹ ایجنڈا عمران خان پر دباؤ ڈالو کہ ہماری جان چھوڑ دے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں