35

پاکستان کو ریڈ لسٹ سے نکالنے کا معاملہ پاکستان نے برطانیہ کے خلاف انتہائی قدم اٹھا لیا

لندن+اسلام آباد (یاسر علی خان) برطانیہ میں ایک پٹیشن دائر کی گئی ہے جس میں پاکستان کو ریڈ لسٹ سے نکالنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔برطانیہ کی طرف سے پاکستان کو ریڈ لسٹ میں رکھنے اور بھارت کو نکالنے پر وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے پٹیشن شیئر کی ہے جس میں پاکستان کو ریڈ لسٹ سے نکالنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔وفاقی وزیر اطلاعات نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کے ذریعے پٹیشن شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ پٹیشن: پاکستان کو سفر کی ریڈ لسٹ سے ہٹایا جائے

۔برطانیہ میں دائر کی گئی ایک پٹیشن میں پاکستان کو ریڈ لسٹ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ پٹیشن پر ووٹ کا حق صرف برطانیہ میں مقیم پاکستانیوں کو ہے اور اب اس پر 60 ہزار سے زائد لوگوں نے الیکٹرانک دستخط کیے ہیں۔ اگر اس پٹیشن پر ایک لاکھ افراد دستخط کر دیتے ہیں تو اسے برطانوی پارلیمنٹ میں بحث کے لیے پیش کیا جائے گا۔پٹیشن میں لکھا ہے کہ پاکستان کو ریڈ لسٹ سے ہٹایا جائے۔ ہزاروں لوگ پاکستان میں پھنسے ہوئے ہیں اور فیملیز مالی طور پر پریشان ہیں۔

کوئی براہ راست پرواز مہیا نہیں ہے۔ گھر آنے میں ہماری مدد کریںبرطانوی اراکین پارلیمنٹ نے پاکستان کو عالمی سفر کے لیے اپنی ریڈ لسٹ میں رکھنے پر اپنی حکومت کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنا ڈالا۔برطانیہ میں بین الاقوامی سفر کے لیے ٹریفک لائٹ نظام نافذ ہے جس میں کم خطرہ والے ممالک کو قرنطینہ سے پاک سفر کے لیے گرین، درمیانے خطرہ والے ممالک کو امبر کا درجہ دیا گیا ہے اور ریڈ لسٹ کے ممالک 10 روز ہوٹل میں قرنطینہ میں گزارنے کی ضرورت ہے۔ اپریل کے شروع میں پاکستان کو ریڈ لسٹ میں رکھا گیا تھا جسکے بعد 19 اپریل کو کیسز کی بڑھتی تعداد اور ڈیلٹا کی مختلف کیسز کے سامنے آنے کے بعد بھارت کو بھی فہرست میں شامل کرلیا گیا تھا۔۔برطانوی حکومت کی طرف سے جاری کردہ سفری فہرستوں کی اپڈیٹ میں بحرین، قطر اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ بھارت کو بھی 8 اگست (اتوار) سے امبر لسٹ میں منتقل کردیا جائے گا۔برطانوی ایم پی ناز شاہ نے کہا کہ وہ اس اقدام پر حیران ہیں۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب برطانیہ نے اپنے قرنطینہ ٹریفک لائٹ سسٹم کے انتظامات میں گھناؤنے رویے کا مظاہرہ کیا ہو۔ پاکستان ابھی تک ریڈ لسٹ میں کیوں ہے ، اس کا 7 روز کے انفیکشن کی شرح 14 فیصد ہے جبکہ بھارت 20 فیصد پر امبر لسٹ میں ترقی پاچکا ہے

جو اس فہرست میں شامل دیگر ممالک سے بہت زیادہ ہے۔انہوں نے کہا کہ آخری بار جب حکومت نے سائنس کے بجائے سیاسی پسندیدگی پر فیصلہ کیا تھا تو ہماری قوم کی کورونا سے جنگ میں مشکلات بڑھ گئی تھی جس کی وجہ سے ڈیلٹا قسم برطانیہ میں سب سے نمایاں کورونا قسم بن گیا۔اس فیصلے کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے انہوں نے اس مسئلے کو اٹھانے کا عزم ظاہر کیا۔بولٹن ساؤتھ ایسٹ کی رکن پارلیمنٹ یاسمین قریشی نے بھی نشاندہی کی کہ پاکستان کسی قسم کی تشویش نہ ہونے کے باوجود ریڈ لسٹ میں ہے۔انہوں نے کہا کہ میں نے حکومت سے سوال کیا تھا اور مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کی تھا تاہم اس سے کچھ حاصل نہیں ہوا۔ حکومت پاکستان کو ممکنہ معاشی فوائد کے لیے سزا دینا چاہتی ہے، یہ پاکستان کے ساتھ واضح امتیازی سلوک ہے۔زخم پر نمک چھڑکنے کے لیے ہوٹل کی قرنطینہ لاگت میں 450 یورو سے 800 یورو کے درمیان اضافہ ہونے والا ہے جو 2200 یورو تک پہنچ جائے گی۔ وہ اس معاملے پر برطانیہ کے وزیر ٹرانسپورٹ گرانٹ شپس کو خط لکھ رہی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں